Wednesday, 28 September 2016

ایک بھی روپیہ خرچ کئے بغیر پوری دنیا کی سیر کریں !!!


ایک بھی روپیہ خرچ کئے بغیر پوری دنیا کی سیر کریں !!!

World highest Graveyard

 

لندن(آن لائن)28 سالہ برائن ہیرس اور 27 سالہ کیرولین پلیممونس نے دنیا کی سیر کے لیے اپنی بہترین ملازمتوں کو لات ماری اور پھر نکل پڑے۔مگر 5 سال سے جاری دنیا کے اس سفر کے دوران انہوں نے ایک روپیہ بھی خرچ بھی نہیں کیا اور وہ دنیا بھر میں رضاکارانہ کام کی بنیادوں پر جاکر مفت قیام اور ٹرانسپورٹ کی سہولت حاصل کرکے اپنا شوق پورا کرتے ہیں۔کھانا پکانے سے لے کر دیگر متعدد کاموں تک انہوں نے مختلف ممالک میں بہت کچھ سیکھا، مقامی افراد کو دوست بنایا اور چند زندگی بدل دینے والے تجربات کو جانا۔ہیرس کا کہنا تھا کہ اس نے بین الاقوامی تعلقات میں ڈگری لی ہے، تو میں ہمیشہ سے ہی دنیا کو گھومنا چاہتا تھا اور ملازمت کے دوران ایک دن میں نے فیصلہ کرلیا کہ اب ایسا کرنا ہے اور ہم دونوں اپنے خواب کو تعبیر دینے کے لیے نکل پڑے،انہوں نے رضاکارانہ خدمات سرانجام دے کر دنیا کو دیکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ دیگر ثقافتوں کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ اور مقامی افراد کی طرح رہ سکیں۔ہیرس کا مزید کہنا تھا کہ ہم دنیا کو ایسے نہیں دیکھنا چاہتے تھے جیسے گوگل پر کسی ملک کو سرچ کرنے پر وہاں کے سیاحتی مقامات کی فہرست آجاتی ہے کہ اس میوزیم میں چلے جائیں۔کیرن نے بتایا کہ ان ملازموں کے نتیجے میں ہم رہائش اور سفری سہولیات میسر آتیں اور اس طرح ہم نے دنیا کے بیشتر ممالک کو ایک روپے خرچ کیے بغیر دیکھ لیا۔اس جوڑے کا کہنا ہے کہ جب تک ممکن ہوا وہ اکھٹے دنیا کو کھوجنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے

صحت کے معاملے میں خواتین کی 10 سنگین غلطیاں


 

خوبصورت نظر آنے کے لیے خواتین دنیا بھر کے جتن کرتی ہیں لیکن اکثر کو شکایت رہتی ہے کہ انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ فوٹو؛ فائل
کراچی: اچھی صحت اور خوبصورت نظر آنے کے لیے خواتین دنیا بھر کے جتن کرتی ہیں لیکن اکثر کو شکایت رہتی ہے کہ انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اگر آپ کو بھی یہی شکایت ہے تو جائزہ لیں کہ کہیں آپ بھی یہ غلطیاں کرکے اپنی صحت اور خوبصورتی کو داؤ پر نہیں لگارہیں۔
1۔ کم پانی پینا:
مناسب مقدار میں پانی پینا ہم سب کی صحت کے لیے مفید اور ضروری ہے۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ ہمیں روزانہ کم از کم 8 گلاس (2 لیٹر) پانی پینا چاہیے تاکہ جسم میں پانی کی صحیح مقدار موجود رہے لیکن اکثر خواتین اس سادہ سے مشورے کو نظرانداز کردیتی ہیں اور اس وقت بھی پانی نہیں پیتیں کہ جب انہیں پیاس لگ رہی ہوتی ہے۔ ضرورت سے کم پانی پینے کے نتیجے میں آپ کو نہ صرف ڈی ہائیڈریشن (جسم میں پانی کی کمی) کی شکایت ہوسکتی ہے بلکہ اس سے جلدی تھکن، چڑچڑا پن اور قبض جیسے مسائل کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔
2۔ کھانا چھوڑ دینا:
بہت سی خواتین ’’ڈائٹنگ‘‘ کے نام پر ایک وقت کا کھانا چھوڑ دیتی ہیں لیکن اس سے ان کی صحت کو فائدے کے بجائے نقصان ہی پہنچتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جب آپ ایک وقت کھانا نہیں کھاتیں تو لمبے وقفے کے نتیجے میں آپ کو شدید بھوک لگتی ہے اور آپ ایک ہی وقت میں معمول سے زیادہ کھاتے ہیں جو وزن میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ وقت پر کھانا کھائیں لیکن مناسب مقدار میں۔ کیونکہ اس طرح آپ کی بھوک قابو میں رہنے کے علاوہ صحت بھی اچھی رہے گی۔
3۔ متوازن غذا نہ کھانا:
وقت پر اور صحیح مقدار میں کھانا کھانے والی خواتین بھی اکثر صحت کے مسائل کی شکایت کرتی ہیں لیکن اس کا تعلق کھانے کی مقدار اور وقت سے نہیں بلکہ کھانے کے معیار سے ہے۔ ضروری ہے کہ آپ کی غذا متوازن بھی ہو یعنی اس میں دالیں، سبزیاں، پھل، خشک میوہ جات اور فائبر سے بھرپور (خاص کر بھوسی یعنی bran کی مناسب مقدار والا) آٹا بھی شامل ہو۔ متوازن غذا کی بدولت آپ کے جسم میں زیادہ چربی جمع نہیں ہونے پاتی جب کہ ہاضمہ بھی درست رہتا ہے اور آپ سارا دن خود کو چاق و چوبند محسوس کرتی ہیں۔
4۔ ناکافی پروٹین:
متوازن غذا کے اہم اجزاء میں ’’پروٹین‘‘ (لحمیات) بھی شامل ہیں جو خواتین و حضرات دونوں کے لیے ضروری ہیں۔ لیکن بیشتر خواتین اس کا خیال نہیں رکھتیں اور ضرورت سے کم مقدار میں پروٹین استعمال کرتی ہیں۔ پروٹین سے بھرپور غذاؤں میں انڈا، مچھلی، مرغی، دہی اور دودھ بطورِ خاص قابلِ ذکر ہیں۔ اگر روزانہ ممکن نہ بھی ہو تو ہفتے میں 2 سے 3 مرتبہ ان پر مشتمل کھانے پکائے جاسکتے ہیں اور جسم میں پروٹین کی مقدار پوری رکھی جاسکتی ہے۔ واضح رہے کہ پروٹین سے نہ صرف جسم چست (اسمارٹ) رہتا ہے بلکہ یہ خون میں شکر کی مقدار (شوگر لیول) بھی کنٹرول میں رکھتا ہے۔
5۔ کاربوہائیڈریٹس کی نامناسب مقدار:
پروٹین کی طرح کاربوہائیڈریٹس بھی ہماری روزمرہ غذا کے لازمی اجزاء میں شمار کیے جاتے ہیں لیکن بہت سی خواتین اس طرف توجہ نہیں دیتیں۔ کیلا، آلو، چقندر، نارنگی (اورنج)، گریپ فروٹ، سیب، لوبیہ، مختلف سبزیوں اور اناج میں کاربوہائیڈریٹس کی وافر مقدار ہوتی ہے جنہیں اپنے روزمرہ غذائی معمولات کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔ البتہ کاربوہائیڈریٹس کے استعمال میں حد سے تجاوز بھی نہیں کرنا چاہیے جب کہ ان کی کم مقدار لینے سے چڑچڑے پن، تھکن، متلی، قبض، دردِ سر اور ضرورت سے زیادہ کھانے (اوور ایٹنگ) جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
6۔ چکنائی سے مکمل پرہیز:
یہ مانا کہ زیادہ تیل اور گھی والی (یعنی مرغن) غذاؤں میں چکنائی کی وافر مقدار ہوتی ہے جو آپ کے جسم میں کولیسٹرول بڑھا سکتی ہے لیکن یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ چکنائی بھی ہمارے جسم کی اہم ضروریات میں شامل ہے۔ اس لیے روزمرہ غذا میں چکنائی کی مقدار کم ضرور رکھئے لیکن اسے بالکل ختم نہ کریں۔
7۔ بے وقت کھانا:
غذا کتنی ہی متوازن اور غذائی اجزاء سے بھرپور کیوں نہ ہو، لیکن اگر بے وقت کھائی جائے تو فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بنتی ہے۔ مشرقی گھرانوں میں دیکھا گیا ہے کہ خاتونِ خانہ پہلے سارے گھر والوں کو کھانا کھلاتی ہیں اور پھر برتن دھونے کے بعد خود کھانا کھاتی ہیں۔ یہ ان کی صحت کے لیے بری خبر ہے۔ انہیں چاہیے کہ صبح کے ناشتے سے لے کر رات کا کھانا تک صحیح وقت پر کھائیں۔ یاد رہے کہ ناشتے کا صحیح وقت علی الصبح یعنی طلوعِ آفتاب کے فوراً بعد، دوپہر کا کھانا دن کے 12 بجے سے 2 بجے کے درمیان کھا لینا چاہیے جب کہ رات کے کھانے کا موزوں ترین وقت سورج چھپنے سے پہلے تک کا ہے۔ بے وقت کھانے کا نتیجہ بدہضمی، موٹاپے اور صحت کے دوسرے کئی مسائل کی صورت میں ظاہر ہوسکتا ہے۔
8۔ حد سے زیادہ ورزش:
اگرچہ متوسط طبقے کی خواتین سارے دن گھر کے کام کاج ہی میں اتنی جسمانی مشقت کرلیتی ہیں کہ انہیں کسی ورزش کی ضرورت نہیں رہتی لیکن ایک آرام دہ اور پرآسائش زندگی گزارنے والی عورتیں خود کو ’’فٹ‘‘ رکھنے کے لیے طرح طرح کی ورزشیں کرتی ہیں۔ لیکن انہیں یہ جاننا چاہیے کہ جسمانی برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ خواتین کو اسمارٹ اور چاق و چوبند رکھنے کے لیے پورے دن میں زیادہ سے زیادہ 60 منٹ تک کی ورزش کرنی چاہیے۔
9۔ ورزش سے گریز:
اسی تصویر کا دوسرا رخ اُن خواتین کی شکل میں ہے جو بے حد آرام پسند ہوتی ہیں اور نہ تو وہ گھریلو کام کاج کرتی ہیں اور نہ ہی ورزش میں انہیں دلچسپی ہوتی ہے۔ ایسی خواتین کو یاد رہنا چاہیے کہ صرف صحت بخش اور متوازن غذا انہیں تندرست نہیں رکھ سکتی۔ ورزش نہ کرکے وہ اعصابی تناؤ، ڈپریشن، ہائی بلڈ پریشر، ناقص ہاضمے، موٹاپے اور درجنوں اقسام کے سنگین امراض کو دعوت دے رہی ہوتی ہیں۔
10۔ نیند کی کمی
روزانہ سات گھنٹے کی نیند صحت کےلیے بہت ضروری ہے لیکن اکثر خواتین اس سے کم وقت ہی تک سو پاتی ہیں جس کی عمومی وجہ گھریلو ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ نیند کی کمی انہیں متعدد امراض میں مبتلا کرسکتی ہے۔ لہذا خواتین کو اپنی روزانہ کی نیند پوری کرنی چاہئے اور اگر رات کے وقت پوری نیند ممکن نہ ہوسکے تو وہ دن کے وقت چند گھنٹوں کی نیند لے کر رات کی کسر پوری کرسکتی ہیں۔ تاہم اس کےلیے انہیں اپنے اہلِ خانہ کا تعاون درکار ہوگا۔

نماز ادا کرنے کا طریقہ


دورانِ نماز نظر کہاں ہونی چاہئے؟
س… جب ہم نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو ہماری نگاہ کہاں ہونی چاہئے؟ جب رُکوع میں جاتے ہیں تو نگاہ کہاں کہاں ہونی چاہئے؟ ذرا تفصیل سے بتائیے گا۔
ج… قیام کی حالت میں نظر سجدہ کی جگہ ہونی چاہئے، رُکوع میں قدموں پر، سجدہ میں ناک کی کونپل پر، قعدہ میں رانوں پر اور سلام کہتے ہوئے دائیں اور بائیں کندھے پر۔
نماز میں پیروں کے درمیان فاصلہ اور انگوٹھے کا زمین سے لگارہنا
س… جب ہم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوں تو کیا ہمارے پیروں کے درمیان کا فاصلہ چار اُنگل کا ہونا چاہئے یا اس سے زیادہ؟ اور کیا سیدھے پیر کا انگوٹھا زمین سے لگے رہنا چاہئے یا نہیں؟ جبکہ بہت سے لوگ ایک ایک فٹ کا درمیان فاصلہ رکھتے ہیں اور پیر کا انگوٹھا بھی ایک جگہ نہیں رکھتے، تو کیا یہ دونوں طریقے صحیح ہیں؟
ج… دونوں پاوٴں کی ایڑیوں کے درمیان چار انگشت کے قریب فاصلہ مستحب لکھا ہے، پاوٴں کا انگوٹھا اگر اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو اس سے نماز مکروہ نہیں ہوتی، مگر بلاضرورت ایسا نہ کرنا چاہئے۔
تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ باقی تکبیریں سنت ہیں
س… مقتدی محویت کے باعث یا کسی دُوسری وجہ سے تعدیل ارکان کے وقت تکبیر نہیں کہہ سکا یا کوئی تکبیر کہی اور کوئی نہیں کہی، (تکبیرِ تحریمہ ضرور کہہ چکا ہے)، تو اس نقص کے باعث کیا اس کی نماز فاسد ہوگئی؟ نیز یہ بھی فرمائیں کہ تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ دُوسری تمام تکبیریں فرض ہیں، واجب ہیں، سنت ہیں یا مستحب؟
ج… تکبیرِ تحریمہ فرض ہے، باقی تکبیریں سنت ہیں، اگر نہیں کہہ سکا تو تب بھی نماز ہوگئی۔
تکبیرِ تحریمہ کے وقت ہاتھ اُٹھانے کا صحیح طریقہ
س… تکبیرِ تحریمہ کے وقت ہاتھ اُٹھانے کی تین روایات ہیں، ایک کندھوں کے برابر کی، دُوسری کانوں کے برابر، اور تیسری سر کے برابر، سوال یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کندھوں کے برابر تک ہاتھ اُٹھائے تھے یا راویوں نے جان بوجھ کر روایت کرتے وقت تغیر و تبدل کردیا، تاکہ اُمت میں تفرقہ پیدا ہوجائے؟
ج… تینوں روایات صحیح ہیں، اور ان میں کوئی تعارض نہیں، ہاتھوں کا نیچے کا حصہ کندھوں تک، انگوٹھا کانوں کی لو تک اور اُنگلیاں سر تک ہوں، انگوٹھوں کو کانوں کی لو سے مس کرنا چاہئے۔
تکبیر کہتے وقت ہتھیلیوں کا رُخ کس طرف ہونا چاہئے؟
س… جناب میں نے ایک جگہ پڑھا تھا کہ نماز شروع کرتے وقت تکبیر کہتے وقت ہاتھوں کو جب کانوں تک اُٹھایا جاتا ہے اس وقت ہتھیلیوں کا رُخ قبلہ کی جانب ہونا چاہئے، جبکہ میں نے اپنے گھر والوں اور دُوسرے نمازیوں کو دیکھا ہے کہ تکبیر کہتے وقت ان کے ہاتھوں کی ہتھیلیوں کا رُخ چہرے کی طرف ہوتا ہے، آپ سے گزارش ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیے کہ تکبیر کہنے کے دونوں طریقوں میں سے کون سا طریقہ صحیح ہے؟
ج… درمختار میں دونوں طریقے لکھے ہیں، اور دونوں صحیح ہیں، لیکن قبلہ رُخ ہونا زیادہ بہتر ہے۔
امام تکبیرِ تحریمہ کب کہے؟
س… ہماری مسجد کے امام صاحب ”تکبیر“ ختم ہونے سے پہلے ہی ”اللہ اکبر“ کہہ کر نیت باندھ لیتے ہیں، آپ بتائیے جب پوری تکبیر ہوجائے ہم اس وقت نیت باندھیں یا پھر امام صاحب کے ساتھ نیت باندھیں؟
ج… بہتر یہ ہے کہ امام اقامت ختم ہونے پر تکبیرِ تحریمہ کہے، تاکہ اقامت کہنے والا بھی ساتھ شریک ہوسکے۔
امام اور مقتدی تکبیرِ تحریمہ کب کہیں؟
س… تکبیرِ تحریمہ کہنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ بعض لوگ بلند آواز سے تکبیرِ تحریمہ کہتے ہیں، بعض آہستہ کہتے ہیں، بعض بالکل خاموشی سے ہاتھ اُٹھاکر باندھ لیتے ہیں، اس کے علاوہ بعض ائمہ تکبیر اتنی لمبی کھینچتے ہیں کہ بعض مقتدی پہلے ہی نیت باندھ چکے ہوتے ہیں، لہٰذا اس سلسلے میں امام اور مقتدی اور اکیلے نماز پڑھنے والے کے لئے شرعاً صحیح طریقہ کیا ہے؟
ج… تکبیرِ تحریمہ اتنی آواز سے کہی جائے کہ اپنے آپ کو سنائی دے، امام کو چاہئے کہ تکبیر کو زیادہ لمبا نہ کھینچے، اور مقتدیوں کو چاہئے کہ امام کے تکبیر شروع کرنے کے بعد تکبیر شروع کریں اور ختم ہونے کے بعد ختم کریں، اگر مقتدی امام سے پہلے تکبیرِ تحریمہ ختم کردے تو اس کی نماز نہیں ہوگی۔
مقتدی کے لئے تکبیرِ اُوْلیٰ میں شرکت کے درجات
س… میں نے سنا ہے کہ تکبیرِ اُوْلیٰ کے تین درجات ہیں، اوّل یہ کہ جب امام صاحب اللہ اکبر کہے تو ہم بھی اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لیں، دُوسرا یہ کہ جب امام صاحب قرأت شروع کریں اس سے پہلے ہم ہاتھ باندھ لیں، اور تیسرا یہ کہ امام صاحب کے رُکوع میں جانے سے پہلے ہم ہاتھ باندھ لیں، کیا یہ دُرست ہے؟ اگر دُرست ہے تو ہمیں تکبیرِ اُوْلیٰ کا ثواب ملے گا یا نہیں؟
ج… صحیح تو یہ ہے کہ تکبیرِ اُوْلیٰ کی فضیلت اس شخص کے لئے ہے جو امام کے تحریمہ کے وقت موجود ہو، بعض نے اس میں زیادہ وسعت پیدا کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو شخص قرأت شروع ہونے سے پہلے شریک ہوجائے اس کو بھی فضیلت حاصل ہوجائے گی، اور بعض نے مزید وسعت دیتے ہوئے کہا کہ جو قرأت ختم ہونے سے پہلے شریک ہوجائے اس کو بھی یہ فضیلت ہے۔
تکبیرِ تحریمہ دو بار کہہ دینے سے نماز فاسد نہیں ہوتی
س… اگر نمازی قصداً یا سہواً تکبیرِ تحریمہ یا سلام کے الفاظ دو مرتبہ ادا کرلے تو اس سے نماز فاسد ہوجائے گی یا نہیں؟
ج… نماز ہوجائے گی۔
نماز میں ہاتھ باندھنا سنت ہے
س… بعض لوگ نیت کرنے کے بعد ہاتھ کو باندھتے نہیں، کیا ان کی نماز ہوجاتی ہے؟ اور کیا حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مختلف طریقوں سے نماز ادا کی ہے؟
ج… ہاتھ باندھنا سنت سے ثابت ہے، اس لئے جمہور اُمت کے نزدیک یہ سنت ہے۔
رفع یدین کرنا کیسا ہے؟
س… کیا رفع یدین جائز ہے؟ جبکہ بعض کرتے ہیں اور بعض ترک کرتے ہیں۔
ج… رفع یدین تکبیرِ تحریمہ کے لئے بالاتفاق سنت ہے، اس کے علاوہ دُوسرے مواقع پر رفع یدین نہ کرنا بہتر ہے۔
کیا رفع یدین ضروری ہے؟
س… ہمارے پڑوس میں کچھ لوگ رہتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ بغیر رفع یدین کے تمہاری نماز بالکل نہیں ہوتی، اور (سنن الکبریٰ بیہقی) سے حدیث پیش کرتے ہیں کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال تک رفع یدین کیا، جبکہ ہم رفع یدین نہیں کرتے، ہمارے پاس کوئی بھی عالم نہیں جس سے ہم یہ مسئلہ پوچھ سکیں، مہربانی فرماکر آپ اس مسئلے کی مکمل وضاحت فرمائیں۔
ج… آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ترکِ رفع یدین بھی ثابت ہے اور ہمارے امام ابوحنیفہ اور بہت سے ائمہ دین نے اسی کو اختیار کیا ہے، جو حضرات رفع یدین کے قائل ہیں وہ بھی اس کو مستحب اور افضل ہی فرماتے ہیں، فرض و واجب نہیں کہتے، اس لئے یہ کہنا کہ رفع یدین کے بغیر نماز نہیں ہوتی، خالص جہالت ہے۔ سننِ کبریٰ کی جس روایت کا آپ نے ذکر کیا ہے، وہ حد درجہ کمزور ہے، بلکہ بعض محدثین نے اس کو موضوع (من گھڑت) کہا ہے، (دیکھئے: حاشیہ نصب الرایہ ج:۱ ص:۴۱۰)۔
نیت اور رُکوع کرنے میں ہاتھ نہ چھوڑیں
س… نماز کی نیت کرکے ہاتھ کانوں کی لو تک اُٹھاکر گھٹنوں تک چھوڑ کر پھر ناف کے نیچے باندھنے چاہئیں یا کانوں کی لو تک اُٹھاکر فوراً ناف کے نیچے باندھ لیں؟ نیز ایسے ہی رُکوع میں جاتے ہوئے پہلے ہاتھوں کو گھٹنوں تک چھوڑ کر چند سیکنڈ کھڑے ہوکر رُکوع میں جائیں یا بندھے ہوئے ہاتھ چھوڑ کر فوراً رُکوع میں چلے جائیں؟
ج… ہاتھ چھوڑنے کی ضرورت نہیں، کانوں کی لو تک اُٹھاکر ہاتھ باندھ لیں، اسی طرح رُکوع کو جاتے ہوئے ہاتھ چھوڑ کر کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں، ہاتھ چھوڑ کر رُکوع میں چلے جائیں۔
کیا رُکوع کی حالت میں گھٹنوں میں خم ہونا چاہئے
س… جب آدمی رُکوع میں ہوتا ہے تو اس وقت ٹانگوں کو خم کرنا چاہئے یا سیدھی رکھنی چاہئیں؟ ہمارے ایک صاحب کہتے ہیں کہ اس وقت پورے جسم کو لفظ ”محمد“ کی شکل کی طرح بنانا چاہئے، اور میں کہتا ہوں کہ سر اور کمر ایک سیدھ میں اور ٹانگیں اور گھٹنے ایک سیدھ میں ہونے چاہئیں اور وہ کہتے ہیں کہ گھٹنوں میں خم ہونا چاہئے۔
ج… آپ صحیح کہتے ہیں۔
بیٹھ کر نماز پڑھنے والا رُکوع میں کتنا جھکے؟
س… بیٹھ کر نماز پڑھتے وقت رُکوع میں کہاں تک جھکنا چاہئے؟
ج… اتنا جھکیں کہ سر گھٹنوں کے برابر آجائے۔
سمع اللہ لمن حمدہ کے بجائے اللہ اکبر کہہ دیا تو نماز ہوگئی
س… گزشتہ دنوں ہمارے محلے کی مسجد میں امام صاحب رُخصت پر تھے، نمازیوں میں سے ایک صاحب نے نمازِ عشاء کی امامت کی، آخری دو رکعتوں میں انہوں نے رُکوع سے اُٹھتے وقت ”سمع اللہ لمن حمدہ“ کے بجائے ”اللہ اکبر“ کے کلمات ادا کئے، نماز کے بعد اکثر مقتدی کہہ رہے تھے کہ نماز دوبارہ ادا کی جائے، چند ایک نے کہا نماز دوبارہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں، پھر نماز دوبارہ ادا نہ کی گئی، اکثر مقتدی غیرمطمئن ہوکر چلے گئے، کیا جب امام رُکوع سے اُٹھتے وقت بھول کر ”اللہ اکبر“ کہے تو مقتدی کو کیا لقمہ دینا چاہئے اور کیا اس طرح نماز دُرست ہوگی؟
ج… نماز صحیح ہوگئی، لقمہ دینے کی ضرورت نہیں۔
رُکوع کے بعد کیا کہے؟
س… نماز کے اندر رُکوع سے اُٹھ کر ”ربنا لک الحمد حمدًا کثیرًا طیبًا مبارکًا فیہ“ کیا پورا پڑھنا چاہئے اور اسی طرح دو سجدوں کے درمیان جلسہ میں وہ دُعا جو عام طور پر نماز کی کتابوں میں لکھی ہوتی ہے، کیا وہ بھی پوری پڑھنی چاہئے؟
ج… یہ دُعائیں عموماً نفل نماز میں پڑھی جاتی ہیں، فرض نماز میں بھی اگر پڑھ لے تو اچھا ہے، اور اگر امام ہو تو اس کا لحاظ رکھے کہ مقتدیوں کو گرانی نہ ہو۔
سجدہ میں ناک زمین پر لگانا
س… نماز میں میں نے بہت سے آدمیوں کود یکھا ہے کہ سجدہ کرتے وقت ناک کو صرف ایک بار زمین سے لگاتے ہیں پھر سجدہ مکمل کرنے تک ماتھا ہی لگائے رکھتے ہیں، کیا ان کی نماز ہوجاتی ہے؟
ج… سجدہ میں پیشانی اور ناک لگانا دونوں ضروری ہیں، صرف پیشانی لگانا، ناک نہ لگانا مکروہِ تحریمی ہے، اور ایسی نماز کا لوٹانا واجب ہے، اور ایک بار ناک لگاکر پھر نہ لگانا بُرا ہے۔
نماز کا سجدہ زمین پر نہ کرسکے تو کس طرح کرے؟
س… میری ٹانگ گرنے کی وجہ سے کمزور ہے، اور گھٹنے میں درد کی وجہ سے سجدہ زمین پر نہیں کرسکتی ہوں، اور زمین سے کچھ اُوپر تک سجدہ ہوتا ہے، کیا ایسا سجدہ کروں یا کہ کسی چیز کو رکھ کر سجدہ کروں؟ مہربانی سے بتائیے کہ کیا اس طرح میری نماز ہوجائے گی؟
ج… اگر آپ کو سجدہ کرنے پر قدرت نہیں تو سجدہ کا اشارہ کرلینا کافی ہے، کوئی چیز آگے رکھ کر اس پر سجدہ کرنا کوئی ضروری نہیں۔
سجدہ میں کہنیاں پھیلانا اور ران پر رکھنا
س… سجدہ میں کچھ لوگ اپنی کہنیاں ران پر رکھ کر سجدہ کرتے اور اُٹھتے ہیں، اور کچھ لوگ سجدہ میں اپنی کہنیاں اس طرح دائیں بائیں پھیلادیتے ہیں کہ ساتھ والے نمازی کی چھاتی میں ان کی کہنیاں جالگتی ہیں، کیا یہ صحیح ہے؟
ج… جماعت میں کہنیاں زیادہ نہیں پھیلانی چاہئیں جس سے دُوسروں کو تکلیف ہو، گھٹنوں پر کہنیاں رکھنا اگر ضرورت سے ہو تو جائز ہے۔
عورتیں مردوں کی طرح سجدہ کریں یا دبے انداز میں؟
س… کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عورتوں کو اُونچا سجدہ جیسا کہ مرد حضرات کرتے ہیں، کرنا چاہئے، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے، اور یہ بھی کہتے ہیں کہ مکہ شریف میں عورتیں اُونچا سجدہ کرتی ہیں، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عورتوں کو ایسا سجدہ کرنا چاہئے جس میں ان کی ٹانگیں زمین سے لگی ہوں اور پیٹ اور ٹانگیں ملی ہوئی ہوں، یعنی دبے انداز میں سجدہ کرنا چاہئے، آپ بتائیے اس بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟ یعنی قرآن و سنت کی روشنی میں کیا دُرست ہے؟
ج… امام ابوحنیفہ کے نزدیک عورت کو زمین سے چپک کر سجدہ کرنے کا حکم ہے، حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو یہی ہدایت فرمائی تھی۔
(مراسیل ابوداوٴد)
اگر کسی رکعت میں ایک ہی سجدہ کیا تو اب کیا کیا جائے؟
س… کتاب احسن المسائل ترجمہ کنز الدقائق شائع کردہ قرآن محل کراچی، نماز کی صفت کے بیان میں لکھا ہے کہ نماز میں کسی رکعت میں غلطی سے ایک ہی سجدہ کیا اور دُوسری رکعت کے لئے کھڑا ہوگیا تو نماز فاسد نہ ہوگی، بلکہ ناقص ہوگی کیا یہ صحیح ہے؟
ج… ہر رکعت میں دو سجدے فرض ہیں، اگر کسی رکعت میں ایک ہی سجدہ کیا تو نماز نہیں ہوگی، احسن المسائل میں جو مسئلہ ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ اگر دُوسرا سجدہ نہیں کیا اور دُوسری رکعت کے لئے کھڑا ہوگیا تو نماز فاسد نہیں ہوئی، لیکن اس سجدہ کا ادا کرنا ضروری ہے، جب بھی یاد آئے اس سجدہ کی قضا کرے، حتیٰ کہ اگر التحیات پڑھ کر سلام پھیردیا تھا، پھر یاد آیا کہ میں نے ایک ہی سجدہ کیا تھا تو سلام پھیرنے کے بعد اگر نماز کو فاسد کرنے والی کوئی چیز نہیں پائی گئی تو اس سجدہ کو قضا کرلے اور سجدہ سہو بھی کرلے، اور اگر سلام پھیرنے کے بعد نماز کو فاسد کرنے والی کوئی چیز پائی گئی، اس کے بعد یاد آیا کہ سجدہ رہ گیا، تو نماز دوبارہ پڑھنی ہوگی۔ خلاصہ یہ کہ دُوسرے سجدے کی تأخیر سے نماز فاسد نہ ہوگی، مگر دُوسرا سجدہ بھی ضروری اور فرض ہے۔
قومہ اور جلسہ کی شرعی حیثیت
س… ہمارے محلے کا ایک آدمی کہتا ہے کہ صرف رُکوع، سجدہ یا قعدہ یا قیام نماز کے ارکان نہیں، بلکہ رُکوع کے بعد کچھ دیر کھڑا ہونا اپنی جگہ الگ رُکن ہے، اور کم از کم اتنی دیر کھڑے ہوں کہ معلوم ہو کہ یہ بھی رُکنِ نماز ہے۔ اسی طریقہ پر ایک سجدہ کے بعد اطمینان سے بیٹھنا یہ بھی اپنی جگہ ایک الگ رُکنِ نماز ہے، اور اتنی دیر بیٹھے کہ احساس ہو کہ یہ الگ رُکن ہے، فرمانے لگے کہ ان ارکان کو مقتدی سے ادا کروانے میں امام کا بڑا ہاتھ ہے۔ حضرت! ہماری مساجد میں جو شکل اکثریت میں ہے وہ شاید یہ ہے کہ امام تو بذاتِ خود یہ ارکان ادا کر پاتے ہیں مگر مقتدی نہیں کرپاتے، جس کی وجہ شاید یہ ہے کہ امام حضرات تو رُکوع سے یا سجدے سے اُٹھتے وقت آدھے راستے میں سمع اللہ لمن حمدہ، اللہ اکبر شروع کردیتے ہیں، اور جب تک مقتدی اُٹھے اس وقت تک امام صاحب اپنے یہ ارکان فرماچکے ہوتے ہیں، مگر وہ اتنا مزید نہیں ٹھہرتے کہ مقتدی بھی چاہے مسئلے سے واقف ہوں یا نہ ہوں اپنے یہ ارکان ادا فرمالیں یا امام کے ٹھہرنے کی وجہ سے اس کے یہ ارکان ازخود ادا ہوجائیں؟
ج… نماز میں رُکوع کے بعد اطمینان کے ساتھ سیدھا کھڑا ہونا، اور دونوں سجدوں کے درمیان اطمینان سے بیٹھنا (رکن تو نہیں مگر) واجب ہے، اس کا اہتمام ضرور کرنا چاہئے، اور امام کو بھی لازم ہے کہ نماز اس طرح پڑھائے کہ مقتدی قومہ اور جلسہ اطمینان سے کرسکیں، ورنہ نماز کا اعادہ واجب ہوگا۔
التحیات میں ہاتھ کہاں رکھنے چاہئیں؟
س… میں نے سنا ہے کہ التحیات میں ہاتھ گھٹنوں پر نہیں رکھنا چاہئے، اس لئے کہ ہماری رُوح گھٹنوں سے نکلے گی؟
ج… قعدہ میں دونوں ہاتھ رانوں پر رکھ لے، اُنگلیاں قبلے کی طرف متوجہ رہیں، اس طرح کہ اُنگلیوں کے سرے گھٹنوں کے قریب پہنچ جائیں، مگر گھٹنوں کو پکڑے نہیں، ورنہ اُنگلیوں کا رُخ قبلے کی طرف نہیں رہے گا، تاہم اگر گھٹنوں کو پکڑ لے تب بھی جائز ہے، مگر افضل وہ ہے جو اُوپر لکھا گیا، اور آپ نے جو لکھا ہے کہ ”ہماری رُوح گھٹنوں سے نکلے گی“ یہ میں نے کہیں نہیں پڑھا۔
س… یہ بھی سنا ہے کہ اُنگلیوں کو التحیات میں لٹکانا نہیں چاہئے کہ قیامت کے دن لٹکی ہوئی اُنگلیاں کاٹی جائیں گی، کیا یہ دُرست ہے؟
ج… میں نے یہ بات نہیں سنی، بظاہر فضول بات ہے۔
التحیات میں تشہد کے وقت کس ہاتھ کی اُنگلی اُٹھائیں؟
س… قعدہ میں التحیات کے بعد ہماری مسجد میں ایک صاحب اُلٹے ہاتھ کی شہادت کی اُنگلی تھامتے ہیں، کیا یہ صحیح طریقہ ہے؟ اور ان صاحب کو کس طرح سمجھایا جاسکتا ہے، کیونکہ وہ ادھیڑ عمر کے آدمی ہیں، اور نوجوان لوگ کچھ سمجھائیں تو یہ لوگ نوجوانوں کی عمر کا حوالہ دے کر اپنی بڑائی دکھاتے ہیں، اور صحیح بات کو تسلیم نہیں کرتے۔
ج… التحیات میں سیدھے ہاتھ کی شہادت کی اُنگلی اُٹھائی جاتی ہے، اُلٹے ہاتھ کی نہیں، ان صاحب کو مسئلہ تو ضرور بتایا جائے، اس پر وہ عمل کرتے ہیں یا نہیں، یہ ان کا کام ہے۔
اگر تشہد میں اُنگلی نہ اُٹھائی جائے تو کیا نماز ہوجائے گی؟
س… (الف) ایک عالم دین سے دریافت کیا کہ ”التحیات“ کے دوران اُنگشتِ شہادت کا بلند کرنے اور گرانے کی شرعی نوعیت کیا ہے؟ تو انہوں نے جواباً فرمایا کہ اس کی ضرورت نہیں ہے، مطلب یہ ہے کہ اس فعل کے بغیر بھی نماز ہوجاتی ہے۔ براہ کرم وضاحت فرمائیں کہ حدیث و فقہ کی روشنی میں اس فعل کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ (فرض، سنتِ موٴکدہ وغیرہ)۔ (ب)التحیات کے دوران کہاں سے اُنگلی بند کی جائے اور کہاں گرائی جائے؟ اور اُنگلی گراکر ہاتھ سیدھا کرلیا جائے یا حلقہ سلام پھیرنے تک بنا رہے؟
ج… تشہد پر اُنگشتِ شہادت کے ساتھ اشارہ کرنا سنت ہے، اس لئے یہ کہنا غلط ہے کہ اس کی ضرورت نہیں، البتہ یہ صحیح ہے کہ اگر نہ کیا جائے تو نماز ہوجاتی ہے، اشارے کا طریقہ یہ ہے کہ ”اشہد ان لا الٰہ الا اللہ“ کہتے ہوئے ”لا“ پر اُنگلی اُٹھائے اور ”اِلا اللہ“ پر گرادے۔
تشہد کی اُنگلی سلام پھیرنے تک اُٹھائے رکھنے کا مطلب
س… آپ کا فتویٰ متعلق تشہد کے وقت اُنگلی اٹھانے کے بارے میں پڑھا، اس بارے میں آپ کی توجہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب کے فتویٰ کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں، کتاب ”فتاویٰ رشیدیہ“ کے صفحہ نمبر:۳۲ پر تحریر ہے کہ: ”تشہد کے وقت لفظ ”لا“ پر اُنگلی اُٹھائی جائے اور سلام پھیرنے تک اُنگلی اُٹھائے رکھیں“ آپ کے اور گنگوہی صاحب کے فتویٰ میں بالکل واضح اختلاف ہے، لہٰذا کون سے فتویٰ پر عمل کیا جائے سخت اُلجھن پیدا ہوگئی ہے، اور حدیث شریف میں بھی یہی آتا ہے کہ لفظ ”لا“ پر اُنگلی اُٹھائے اور اُنگلی گرانے کے بارے میں کہیں کسی حدیث میں بھی نہیں بیان کیا گیا، لہٰذا جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں مرحمت فرماکر اجرِ عظیم حاصل کریں۔
ج… دونوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں، دراصل دو مسئلے الگ الگ ہیں، ایک شہادت کے وقت اُنگلی اُوپر کو اُٹھانا اور نیچے کرلینا، میں نے یہ مسئلہ لکھا تھا کہ ”لا“ کے وقت اُٹھائے اور ”اِلا اللہ“ پر جھکالے، اور دُوسرا مسئلہ یہ ہے کہ شہادت کے بعد اُنگلیوں کا حلقہ سلام تک باقی رکھا جائے اور شہادت کی اُنگلی سلام تک بدستور الگ رہے، فتاویٰ رشیدیہ میں اس مسئلے کو ذکر فرمایا ہے، یہاں اُٹھی رہنی سے یہ مراد نہیں کہ جس طرح ”لا“ پر اُٹھائی جاتی ہے اسی طرح اُٹھی رہے، بلکہ یہ مراد ہے کہ شہادت کے بعد اُنگلیوں کو پھیلایا نہ جائے جس طرح کہ کلمہ شہادت سے پہلے پھیلی ہوئی تھیں، بلکہ مٹھی سلام تک بدستور بند رہنی چاہئے، اور شہادت کی اُنگلی الگ رہنی چاہئے، اسی کو اُٹھی رہنے سے تعبیر فرمایا ہے، سوال و جواب میں غور کرنے سے یہ مطلب واضح ہوجاتا ہے۔
نماز میں کلمہ شہادت پر اُنگلی کب اُٹھانی چاہئے؟
س… روزنامہ جنگ میں آپ نے ایک سوال کا جواب دیا ہے جو بعینہ نقل کرتا ہوں: ”التحیات میں اشہد ان لا پر اُنگلی اُٹھانا اور اِلا اللہ پر رکھ دینا سنت ہے، نہ کرے تو کوئی گناہ نہیں۔“ تو حضرت! حاصلِ کلام یہ کہ میں نے ”کیمیائے سعادت“ جو حجة الاسلام امام غزالی کی شہرہٴ آفاق تصنیف ہے، اس کے صفحہ نمبر:۱۷۳،۱۷۲ پر باب الصلوٰة میں پڑھا تھا کہ ”اشہد ان لا“ پر اُنگلی نہیں اُٹھانی، بلکہ ”اِلا اللہ“ پر اُٹھانی ہے، اور ویسے بھی گرامر کے لحاظ سے اور عربی زبان کے اُصولوں کی مناسبت سے، بلکہ معنوی طور پر ”اشہد ان لا“ کے معنی صرف گواہی یا شہادت کے ہیں، اور وہ بھی منفی شہادت کے، یعنی ”کوئی خدا نہیں“ یا کوئی ”اللہ“ نہیں، اور اس کی تکمیل کے لئے اور اس ادھورے فقرے کی تشنگی کا احساس ختم کرنے کے لئے ”الا اللہ“ یعنی ”مگر خدا ہے“ جیسا کہ قرآنِ حکیم کی متعدّد آیات سے ظاہر ہوتا ہے، سینکڑوں ایسی آیاتِ مبارکہ ہیں جن کی نشاندہی کرنا اور وہ بھی آپ جیسے عالم کے سامنے گویا سورج کو چراغ دکھانا ہے۔
ج… ہماری فقہی کتابوں میں یہ مسئلہ لکھا ہے جو میں نے لکھا تھا، یعنی ”لا الٰہ“ پر اُنگلی اُٹھائے اور ”اِلا اللہ“ پر رکھ دے، اس کی وجہ یہ لکھی ہے کہ اُنگلی اُٹھانے سے اشارہ غیراللہ سے اُلوہیت کی نفی کی طرف ہے، اور اُنگلی رکھنے سے اشارہ حق تعالیٰ شانہ کے لئے اُلوہیت کے اثبات کی طرف ہے، لہٰذا ”لا الٰہ“ پر اُنگلی اُٹھانی چاہئے اور ”اِلا اللہ“ پر رکھ دینی چاہئے۔
حضرت امام غزالی شافعی المذہب ہیں، جبکہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی حنبلی مذہب پر، اور امام غزالی اپنی کتابوں میں شافعی مذہب کے مطابق مسائل لکھتے ہیں، اور حضرت شاہ عبدالقادر جیلانی ”غنیة الطالبین“ میں حنبلی مذہب کے مسائل لکھتے ہیں، احناف کو فقہی مسائل پر ان کتابوں پر نہیں، بلکہ حنفی مذہب کے مطابق عمل کرنا چاہئے۔
مقتدی کے لئے التحیات پوری پڑھنا لازم ہے
س… اگر امام سلام پھیردے اور نمازی نے ابھی تک التحیات مکمل نہ پڑھی ہو تو کیا امام کے ساتھ ہی سلام پھیردے یا پوری دُعا پڑھ کر سلام پھیرے۔
ج… تشہد (یعنی التحیات ”عبدہ و رسولہ“ تک) دونوں قعدوں میں واجب ہے، اگر پہلے قعدہ میں مقتدی کا تشہد پورا نہیں ہوا تھا کہ امام تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہوگیا تو مقتدی امام کی پیروی نہ کرے، بلکہ اپنا تشہد پورا کرکے کھڑا ہو (”عبدہ ورسولہ“ تک)، اسی طرح اگر آخری قعدہ میں مقتدی کا تشہد پورا نہیں ہوا تھا کہ امام نے سلام پھیردیا تو مقتدی امام کے ساتھ سلام نہ پھیرے، بلکہ اپنا تشہد پورا کرکے سلام پھیرے۔
اگر کوئی شخص پہلے قعدہ میں آکر جماعت میں شریک ہوا اور اس نے التحیات شروع کی تھی کہ امام کھڑا ہوگیا، تو یہ شخص امام کے ساتھ کھڑا نہ ہو بلکہ التحیات ․․․”عبدہ ورسولہ“ تک․․․ پڑھ کر کھڑا ہو، اگر کوئی شخص آخری قعدہ میں شریک ہو، ابھی التحیات پوری نہیں کی تھی کہ امام نے سلام پھیر دیا تو یہ شخص فوراً کھڑا نہ ہوجائے بلکہ التحیات ․․․”عبدہ ورسولہ“ تک ․․․ پوری کرکے کھڑا ہو۔
التحیات پر سلام بصیغہ خطاب کا حکم
س… آپ کی خدمت میں ایک سوال لے کر حاضر ہوا ہوں، ہم نماز میں جو التحیات پڑھتے ہیں، وہ درج ذیل ہے: ”التحیات لله والصلوات والطیبات السلام علیک ایھا النبی ورحمة الله وبرکاتہ السلام علینا وعلٰی عباد الله الصالحین اشھد ان لا الٰہ الا الله واشھد ان محمدًا عبدہ ورسولہ
محترم محمود احمد عباسی اپنی تألیف ”تحقیق سیّد و سادات“ میں ایک موقع پر لکھتے ہیں کہ: التحیات کا یہ دُردو ”صلوا علیہ وسلموا تسلیمًا“ کی صحیح صحیح تعمیل ہے، صحابہ آپ کی حیات میں یہی پڑھتے تھے، جب آپ کی وفات ہوگئی ضمیر خطاب ترک کرکے ”السلام علی النبی ورحمة الله وبرکاتہ“ پڑھنے لگے، ایک اور موقع پر لکھتے ہیں کہ: فتح الباری شرح صحیح بخاری باب تشہد فی الاخیرہ (ص:۴۵۳ مطبوعہ انصاری) ابنِ حجر نے سلام علی النبی کی روایتیں درج کرنے کے بعد باسنادِ صحیحہ یہ روایت درج کی ہے کہ: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حیات تھے، صحابہ (التحیات پڑھتے تھے) ”السلام علیک ایھا النبی“ (اے نبی! آپ پر سلام ہو) کہتے تھے، جب آپ کی وفات ہوگئی تو ”سلام علی النبی“ (نبی پر سلام ہو)۔“
ہم نماز (التحیات) میں یہ الفاظ ”السلام علیک ایھا النبی“ پڑھتے ہیں، کیونکہ نماز کی جتنی بھی کتابیں ہم نے پڑھیں، ان میں یہی الفاظ درج ہوتے ہیں، آپ سے سوال یہ ہے کہ کیا اب بھی یہ الفاظ پڑھنا جائز ہیں جبکہ حضورِ اکرم حیات نہیں ہیں؟
ج… عباسی صاحب کی یہ بات تو صحیح نہیں کہ التحیات والا دُرود ”صلوا علیہ وسلموا تسلیمًا“ کی صحیح صحیح تعمیل ہے، کیونکہ اس آیتِ کریمہ میں ”صلوٰة“ اور ”سلام“ دو چیزوں کا حکم دیا گیا ہے، اور التحیات میں صرف سلام ہے، صلوٰة نہیں، اس لئے اس سے آیتِ کریمہ کے حکم کے ایک حصے کی تعمیل ہوتی ہے اور دُوسرے حصے کی تعمیل کے لئے التحیات کے بعد دُرود شریف رکھا گیا ہے۔ اور فتح الباری کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے کہ صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں ”السلام علیک ایھا النبی“ کہا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ”سلام علی النبی“ کہتے تھے، یہ روایت صحیح ہے، اور صحیح بخاری جلد دوم صفحہ:۹۲۶ پر موجود ہے، حافظ نے اس سلسلے کی روایت ذکر کرتے ہوئے شیخ تاج الدین سبکی کے حوالے سے لکھا ہے کہ: ”اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ”السلام علی النبی“ کہنا بھی جائز ہے“ تاہم جن الفاظ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم فرمائی وہ اَوْلیٰ و افضل ہیں، اور اُمت کا تعامل بھی اسی پر چلا آرہا ہے۔
نماز میں دُرود شریف کی کیا حیثیت ہے؟
س… یہ تو معلوم ہے کہ تشہد کے بعد دُرود شریف واجبات سے نہیں، لیکن کیا یہ دونوں دُرود جو نماز میں ہم پڑھتے ہیں یہ مسنون یا مستحب بھی ہیں یا نہیں؟ ”فاران“ شمارہ اپریل ۱۹۸۱ء میں جعفر شاہ کی تحریر کا مفہوم یہ ہے کہ ان کا مسنون یا مستحب ہونا صحاحِ ستہ سے ثابت نہیں، ”صلوا علیہ وسلموا تسلیمًا“ کے حکم کی تعمیل تشہد کے آخری حصے ”السلام علیک ․․․․ الخ“ سے ہوجاتی ہے، لہٰذا بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل پر دُرود پڑھنا دُرست نہیں ہے۔
اگر صحاحِ ستہ میں ایسی کوئی حدیث یا احادیث ہیں جن کی وجہ سے مروّجہ دُرود کے یہی الفاظ مذکور ہیں، تو براہِ کرم اس کی پوری عبارت مع حوالہ، کتاب، صفحہ اور سنِ اشاعت اور ناشر سے مطلع فرمادیں، تاکہ میں قارئینِ فاران کو ان صاحب کی پیداکردہ غلط فہمی سے محفوظ رکھنے کے لئے لکھ سکوں۔
ج… جعفرشاہ صاحب کا تعلق ان ملحدین سے ہے جو دین کی قطعی اور متفق علیہ باتوں کو مشکوک کرنے کے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں۔
مشکوٰة شریف ص:۸۶ میں صحیح بخاری و صحیح مسلم کے حوالے سے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ذکر کی ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ: آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتادیا ہے (یعنی التحیات میں ”السلام علیک ایھا النبی ورحمة الله وبرکاتہ“ کہا جائے)، آپ کے اہلِ بیت پر ہم صلوٰة کس طرح پڑھا کریں؟ فرمایا: یہ کہا کرو: ”اللّٰھم صل علی محمد ․․․․ الخ۔“
قرآنِ کریم نے اُمت کو دو باتوں کا الگ الگ حکم فرمایا ہے، ایک صلوٰة اور دُوسری سلام۔ سلام کے حکم کی تعمیل تو التحیات میں ذکر کئے گئے الفاظ ”السلام علیک ایھا النبی ورحمة الله وبرکاتہ“ پڑھنے سے ہوجاتی ہے، مگر صلوٰة کے حکم کی تعمیل کن الفاظ میں کی جائے؟ یہ بات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں ”دُرودِ ابراہیمی“ کے الفاظ تعلیم فرمائے۔
ایک اور حدیث حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:
”سمع رسول الله صلی الله علیہ وسلم رجلًا یدعو فی صلٰوتہ لم یمجد الله ولم یصل علی النبی صلی الله علیہ وسلم فقال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: عجل ھذا! ثم دعاہ فقال لہ أو لغیرہ: اذا صلّٰی احدکم فلیبداء بتمجید الله عز وجل والثناء علیہ ثم لیصل علی النبی (صلی الله علیہ وسلم) ثم لیدع بعد الثناء۔“ (ابوداوٴد ج:۱ ص:۲۰۸، نسائی ج:۱ ص:۱۸۹، ترمذی ج:۲ ص:۱۸۶، وصححہ، سننِ کبریٰ ج:۲ ص:۱۴۷، صحیح ابنِ خزیمہ ج:۱ ص:۳۵۱، الاحسان بترتیب صحیح ابنِ حبان ج:۴ ص:۲۰۸، مستدرک حاک ج:۱ ص:۲۳۰، ۲۶۸، وقال صحیح علٰی شرط مسلم واقرہ الذھبی)
ترجمہ:…”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سنا کہ اپنی نماز میں دُعا کر رہا ہے، اس نے نہ اللہ تعالیٰ کی تمجید و ثنا کی اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر دُرود بھیجا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص نے جلدبازی کی! پھر اسے بلاکر فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو دُعا سے پہلے اللہ تعالیٰ کی مجد و ثنا بیان کرے، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) پر دُرود بھیجے، پھر حمد و ثنا کے بعد دُعا کرے۔“
ایک اور حدیث میں حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
”اقبل رجل حتی جلس بین یدی رسول الله صلی الله علیہ وسلم ونحن عندہ، فقال: یا رسول الله! اما السلام علیک فقد عرفناہ، فکیف نصلی علیک اذا نحن صلینا علیک فی صلٰوتنا؟ قال: فصمت رسول الله صلی الله علیہ وسلم حتی احببنا ان الرجل لم یسألہ، ثم قال: اذا صلیتم علیّ فقولوا: اللّٰھم صل علٰی محمد ․․․․ الخ۔“ (صحیح ابنِ خزیمہ ج:۱ ص:۳۵۲، الاحسان بترتیب صحیح ابنِ حبان ج:۴ ص:۲۰۷، موارد الظماٰن ص:۱۳۸، مستدرک حاکم ج:۱ ص:۲۶۸)
ترجمہ:…”ایک شخص آیا، یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہم نے پہچان لیا، مگر جب ہم اپنی نماز میں آپ پر دُرود بھیجیں تو کیسے دُرود بھیجیں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموش رہے، یہاں تک کہ ہمارا جی چاہا کہ اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال نہ کیا ہوتا، یعنی شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سوال سے ناگواری ہوئی، پھر فرمایا: جب تم مجھ پر دُرود بھیجو تو یہ کہا کرو (آگے دُرود شریف کے الفاظ سکھائے)۔“
ان احادیث کی بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے آج تک اُمت کا یہ تعامل چلا آتا ہے کہ آخری قعدہ میں التحیات کے بعد دُرود شریف پڑھا جائے، اور پھر دُعا کی جائے، پھر نماز کا سلام پھیرا جائے۔ امام شافعی کے نزدیک آخری قعدہ میں دُرود شریف افضل ہے، اور دیگر اکابر کے نزدیک سنت ہے، لیکن اُمت میں اس کا کوئی بھی قائل نہیں کہ آخری قعدہ میں دُرود شریف نہ پڑھا جائے، ویسے بھی دُعا سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنا، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر دُرود بھیجنا، دُعا کے آداب میں سے ہے، اور یہ قبولیتِ دُعا کا قوی ذریعہ ہے، تو نماز کے آخر میں دُعا سے پہلے دُرود شریف پڑھنا اس قاعدے کے تحت آئے گا۔
تشہد اور دُرود کے بعد دُعائے مأثورہ سے کیا مراد ہے؟
س… نماز فرض، نماز وتر، نماز سنت اور نفل ادا کئے جاتے ہیں، اور آخری قعدہ میں تشہد اور دُرودِ ابراہیمی پڑھتے ہیں، علمائے کرام اور کتبِ فقہاء سے معلوم ہوا ہے کہ تشہد اور دُرودِ ابراہیمی پڑھنے کے بعد دُعائے مأثورہ بھی پڑھیں۔
اکثر نمازی حضرات دُعائے مأثورہ جانتے ہی نہیں، میں اور بہت سے دُوسرے حضرات جانتے ہیں، وہ دُعائے مأثورہ پڑھتے نہیں ہیں، کسی کو اتنا وقت نہیں ملتا، اس صورت میں کہ دُعائے مأثورہ نہ پڑھیں، نماز میں نقص تو نہیں ہوگا؟ اور نماز ادا ہوجائے گی؟ یہ بھی وضاحت فرمائیں کہ دُعائے مأثورہ ہر فرض نماز، وتر، نوافل اور سنتوں میں پڑھی جائے یا صرف فرض نماز کے لئے؟
ج… آخری قعدہ میں دُرود شریف کے بعد دُعا مسنون ہے، قرآنِ کریم یا احادیث شریفہ میں جو دُعائیں آئی ہیں ان کو دُعائے مأثورہ کہا جاتا ہے، ان میں سے کوئی بھی دُعا پڑھ لینے سے سنت ادا ہوجائے گی۔ چنانچہ اکثر لوگ قرآن و حدیث کی دُعائیں پڑھتے ہیں، اگرچہ وہ ”دُعائے مأثورہ“ کا مطلب نہ جانتے ہوں، اور یہ دُعا کرنا سنت ہے، لہٰذا اگر بالکل ہی نہ پڑھے تب بھی نماز ہوجائے گی مگر ثواب میں کمی ہوگی۔
قعدہٴ اخیرہ میں دُرود کے بعد کون سی دُعا پڑھنی چاہئے؟
س… قعدہٴ اخیرہ میں دُرود شریف کے بعد دُعا اور سلام پھیرنے سے پہلے کون سی دُعا پڑھنی چاہئے؟ کسی جگہ ”اللّٰھم انی ظلمت“ اور کسی جگہ ”رب اجعلنی مقیم الصلٰوة“ پڑھنے کو لکھا ہوا ہے، کیا ان میں سے کوئی ایک دُعا پڑھنے سے نماز ہوجائے گی؟
ج… قرآن و حدیث کی جو دُعا چاہے پڑھ لے، نماز ہوجائے گی، حدیث میں ہے کہ: ”اللّٰھم انی ظلمت نفسی“ والی دُعا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی درخواست پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سکھائی تھی۔
نماز میں کتنی دُعائیں پڑھنی چاہئیں؟
س… نماز میں بعد آخری تشہد کے اگر نمازی کئی دُعائیں (جن میں احادیث و قرآن کی دُعائیں شامل ہوں) پڑھ کر سلام پھیرے تو نماز میں کوئی حرج تو واقع نہیں ہوگا؟
ج… جتنی دُعائیں چاہے پڑھ سکتا ہے، مگر امام کو چاہئے کہ اتنا لمبا نہ کرے کہ مقتدی تنگ ہوجائیں۔
غلطی سے سلام بائیں جانب پھیر لیا تو نماز ہوگئی
س… اگر غلطی سے سلام بائیں جانب پھیر لیا اور فوراً یاد آنے پر دائیں اور پھر بائیں طرف پھیرلے تو نماز ہوجائے گی؟
ج… ہوجائے گی!
نماز میں کیا پڑھتے ہیں؟
نماز کے لئے ہر مسلمان کو کم از کم چار سورتیں یاد ہونی چاہئیں
س… نماز میں اگر زیادہ آیت یاد نہ ہو صرف سورہٴ فاتحہ اور اخلاص یاد ہو، ہر نماز میں یہ دونوں سورة ہی پڑھے تو اس سے نماز کے ثواب میں تو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے؟ تمام نماز میں فاتحہ اور اخلاص پڑھنے سے کیا نماز ہوجاتی ہے کہ نہیں؟ جبکہ وتر واجب میں یہی دونوں سورة یاد ہوں، انہی دونوں سورة کو وتر میں پڑھنے سے کیا نماز ہوجاتی ہے کہ نہیں؟
ج… سورہٴ فاتحہ کے بعد ہر رکعت میں ایک ہی سورة پڑھنا مکروہ ہے، اس لئے کم سے کم چار سورتیں تو ہر مسلمان کو یاد کرلینی چاہئیں، اور جب تک یاد نہ ہوں ہر رکعت میں سورہٴ اخلاص ہی پڑھ لیا کریں، نماز ہوجائے گی۔
فرض نماز میں مفصلات پڑھنا مسنون ہے
س… قرأت کے متعلق فجر اور ظہر میں طوال مفصل، عصر اور عشاء میں اوساط مفصل اور نمازِ مغرب میں قصار مفصل پڑھنا مسنون ہے، اگر نمازوں میں قرأت کا یہی معمول رہے تو ان حالات میں پہلے پچّیس پاروں سے ربط و تعلق نہیں رہتا، اتنا تو سمجھتا ہوں کہ قرآنِ کریم کہیں سے بھی پڑھیں نماز ہوجاتی ہے، مگر سوال زیادہ ثواب کمانے کا ہے۔
ج…قرآنِ کریم کا باقی حصہ سنن اور نوافل میں پڑھا جائے، فرائض میں مفصلات کا پڑھنا افضل ہے، تاکہ قرأت طویل نہ ہو۔
نوٹ:… سورہٴ حجرات سے سورہٴ بروج تک کی سورتیں طوال مفصل کہلاتی ہیں، سورہٴ بروج سے سورہ لم یکن تک اوساط مفصل، اور لم یکن سے آخر تک قصار مفصل کہلاتی ہیں۔
زبان سے الفاظ ادا کئے بغیر فقط دِل ہی دِل میں پڑھنے سے نماز نہیں ہوتی
س… دِل ہی دِل میں پڑھنے سے نماز اور تلاوت ہوجاتی ہے یا زبان سے ادائیگی ضروری ہے؟
ج… دِل میں پڑھنے سے نماز نہیں ہوتی، زبان سے الفاظ ادا کرنا ضروری ہے، پھر ایک قول تو یہ ہے کہ ہلکی آواز سے اس طرح پڑھے کہ خود سن سکے، مگر دُوسرا نہ سنے، اور دُوسرا قول یہ ہے کہ زبان سے صحیح الفاظ کا ادا ہونا شرط ہے، اپنے آپ کو سنائی دینا شرط نہیں، پہلا قول زیادہ مشہور ہے اور دُوسرا قول زیادہ لائقِ اعتباد ہے۔
نماز میں قرأت کتنی آواز سے کرنی چاہئے؟
س… نماز کے لئے ہر مسلمان کو یہ حکم ہے کہ دِل میں پڑھے، یعنی اکیلا پڑھ رہا ہو یا امام صاحب کے پیچھے (جتنا امام صاحب کے پیچھے پڑھنا جائز ہے) تو بعض لوگ تو اس طرح پڑھتے ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے کم از کم میں تو اپنی نماز بھول جاتا ہوں، اور کئی اتنی نیچی آواز میں پڑھتے ہیں کہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ یہ کچھ پڑھ رہے ہیں کہ چپ بیٹھے ہیں؟ حتیٰ کہ لب تک بھی ہلتے معلوم نہیں ہوتے، آپ وضاحت کرکے نصیحت فرمائیں کہ دِل میں کس طریقے سے پڑھنا چاہئے؟
ج… نماز میں قرأت اس طرح کرنی چاہئے کہ زبان سے حروف صحیح صحیح ادا ہوں اور آواز دُوسروں کو سنائی نہ دے، دن کی نماز میں اس طرح قرأت کرنا کہ آواز دُوسروں کو سنائی دے، مکروہ ہے، اور اگر اس طرح دِل ہی دِل میں پڑھے کہ زبان کو بھی حرکت نہ ہو اور حروف بھی ادا نہ ہوں تو نماز ہی نہیں ہوگی۔
کیا اکیلا آدمی اُونچی قرأت کرسکتا ہے؟
س… اگر آدمی اکیلا نماز پڑھ رہا ہو، پاس میں کوئی شخص عبادت نہ کرتا ہو تو یہ شخص اُونچی آواز میں نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟
ج… رات کی نمازوں میں اُونچی پڑھ سکتا ہے، رات کی نمازوں سے مراد ہیں: فجر، مغرب اور عشاء۔
نمازِ ظہر و عصر آہستہ، اور باقی نمازیں آواز سے کیوں پڑھتے ہیں؟
س… نماز ظہر و عصر کی آہستہ، نماز فجر، مغرب، عشاء کی بلند آواز تلاوت کی وجوہات تفصیلاً بیان فرمائیں۔
ج… آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے اسی طرح چلا آتا ہے کہ ظہر و عصر کی قرأت آہستہ کی جاتی ہے،ا ور فجر، مغرب اور عشاء کی بلند آواز سے۔ کسی حکم کے ثبوت کی سب سے بڑی وجہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ثبوت ہوتا ہے، اس کے بعد کسی اور وجہ کی کسی موٴمن کو ضرورت ہی نہیں، بلکہ عوام کو مسائلِ شرعیہ کی وجہ پوچھنا مضر ہے، اگرچہ ہر شرعی حکم میں حکمتیں ہیں اور بحمداللہ اہلِ علم کو وہ حکمتیں معلوم بھی ہیں، مگر عوام کو حکمتوں کے درپے نہیں ہونا چاہئے۔
فجر، مغرب اور عشاء کی باجماعت نماز قضا دن میں جہری ہو یا سرّی؟
س… اگر فجر، مغرب یا عشاء کی نماز قضا ہوجائے اور دن کو جماعت کے ساتھ پڑھی جائے تو قرأت سرّی ہوگی یا جہری؟
ج… اس صورت میں جہری قرأت ہوگی، اس کے برعکس اگر دن کی قضاشدہ نماز کی جماعت رات کو کرائی جائے تو اس میں سرّی قرأت ہوگی۔
نماز باجماعت میں مقتدی قرأت کرے یا خاموش رہے؟
س… نماز باجماعت ادا کرتے وقت قیام میں ثنا پڑھنے کے بعد مقتدی کو خاموش کھڑا رہنا چاہئے یا تلاوت کرنی چاہئے، یہاں پر (ابوظہبی میں) مقامی لوگ الحمد شریف ضرور پڑھتے ہیں خواہ تلاوت بالجہر ہو یا تلاوت خفی۔
ج… فاتحہ خلف الامام مشہور اختلافی مسئلہ ہے، امام شافعی اس کو ضروری قرار دیتے ہیں، اور اہلِ حدیث حضرات کا اسی پر عمل ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک قرأت مقتدی کا وظیفہ نہیں، بلکہ امام کا وظیفہ ہے، اس لئے حنفیہ کے نزدیک امام کی اقتدا میں مقتدی کا قرأت کرنا جائز نہیں، آپ اگر امام ابوحنیفہ کے مقلد ہیں تو آپ خاموش کھڑے رہا کریں اور دِل میں سورہٴ فاتحہ کو سوچتے رہیں۔
نوٹ:… اس مسئلے کی تشریح بقدرِ ضرورت میری کتاب ”اِختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم حصہ دوم“ میں ملاحظہ فرمالی جائے۔
کیا مقتدی دھیان جمانے کے لئے دِل میں قرأت یا ترجمہ دُہراتا رہے؟
س… میں اکثر امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے اپنے دھیان کو بھٹکنے سے روکنے کے لئے یہ کرتا ہوں کہ امام صاحب کی قرأت کو دِل میں آہستہ آہستہ دُہراتا رہتا ہوں، یا پھر اگر سورة یا آیات کا ترجمہ یاد ہو تو ترجمہ کو دُہراتا رہتا ہوں، آپ یہ بتائیں کہ فقہِ حنفیہ کے مطابق میرا یہ فعل صحیح ہے یا غلط؟
ج… امام کی قرأت کی طرف متوجہ ہونا عین مطلوب ہے، زبان سے الفاظ ادا نہ کئے جائیں، بلکہ امام جو کچھ پڑھے اس کو توجہ سے سنتا اور سمجھتا رہے۔
مختلف جگہوں سے قرأت کرنا
س… کیا امام یا منفرد ایک ہی رکعت میں مختلف مقامات سے سورہ، رُکوع یا آیات کو قرأت کے لئے ملاسکتا ہے؟ مثلاً: آغاز میں سورہٴ بقرہ کا رُکوع، اور اس کے ساتھ ہی سورہٴ یوسف میں سے کوئی رُکوع یا آیات، یا کہیں اور جگہ سے۔
ج… جائز ہے۔
نماز میں تلاوتِ قرآن کی ترتیب کیا ہو؟
س… میں آپ سے نماز میں پڑھی جانے والی سورتوں کی ترتیب معلوم کرنا چاہتا ہوں، میں دو قسم کی ترتیب لکھ رہا ہوں، برائے مہربانی آپ بتائیں ان میں سے کون سی ترتیب صحیح ہے؟
الف:… اگر چار سنتیں پڑھنی ہوں تو پہلی رکعت میں سورة نمبر۱۰۲، دُوسری رکعت میں سورة نمبر۱۰۵، تیسری رکعت میں سورة نمبر۱۰۹ اور چوتھی رکعت میں سورة نمبر۱۱۳ پڑھ سکتے ہیں۔
ب:…اگر چار سنتیں پڑھنی ہوں تو پہلی رکعت میں سورة نمبر۱۰۲، دُوسری رکعت میں سورة نمبر۱۰۳، تیسری رکعت میں سورة نمبر۱۰۴، اور چوتھی رکعت میں سورة نمبر۱۰۵ پڑھنی چاہئے۔
ج… آپ نے دونوں صورتیں صحیح لکھی ہیں، قرآنِ کریم میں سورتیں جس ترتیب سے آئی ہیں، اسی ترتیب سے پڑھنی چاہئیں، خلافِ ترتیب پڑھنا مکروہ ہے، اور آخری چھوٹی سورتیں یا تو مسلسل پڑھی جائیں یا پہلی رکعت میں جو سورة پڑھی تھی اس کے بعد ایک سورة چھوڑ کر دُوسری نہ پڑھی جائے، بلکہ دو سورتیں چھوڑ کر تیسری پڑھی جائے۔
بعد میں آنے والی رکعت میں پہلی رکعت کی سورة سے زیادہ لمبی سورة پڑھنا
س… میں نے بہشتی زیور میں پڑھا ہے کہ نماز میں دُوسری رکعت میں پہلی رکعت سے زیادہ لمبی سورة نہیں پڑھنی چاہئے، بہت سے لوگ چار رکعت کی نماز الم تر کیف سے شروع کرتے ہیں تو وہ تیسری رکعت میں سورة الماعون پڑھیں گے جو کہ اس سے پہلی سورة القریش سے بڑی ہے، تو کیا نماز دُرست ہوگی؟ چار رکعت نفل نماز میں تو غالباً تیسری رکعت سے مثل نئی نماز کے شروع کرسکتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ دُوسری رکعت کی چھوٹی بڑی سورة کا تیسری رکعت کی سورة پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، لیکن یہاں بھی چوتھی رکعت کی سورة تیسری رکعت کی سورة سے زیادہ لمبی نہیں ہونی چاہئے؟ مولانا صاحب! کیا سنتِ موٴکدہ میں بھی تیسری اور چوتھی رکعات، پہلی دو رکعات سے آزاد ہوتی ہیں؟
ج… یہاں چند مسائل ہیں:
۱:… فرض نماز میں دُوسری رکعت کو پہلی رکعت سے تین آیتوں کی مقدار لمبا کرنا مکروہ ہے، جبکہ دونوں سورتوں کی آیتیں متقارب ہوں، اور اگر دونوں کی آیتیں بڑی چھوٹی ہیں تو حروف و کلمات کا اعتبار ہوگا۔
۲:…یہ حکم تو فرض نماز کا تھا، نفل نماز میں بعض نے دُوسری رکعت کا لمبا کرنا بلاکراہت جائز رکھا ہے، اور بعض نے نفلوں میں دُوسری رکعت کے لمبا کرنے کو مکروہ فرمایا ہے۔
۳:… نفل کا ہر دوگانہ مستقل نماز ہے، اس لئے نفل نماز کی تیسری رکعت اگر دُوسری سے لمبی ہوجائے تو کوئی حرج نہیں، سنتِ غیرموٴکدہ کا بھی یہی حکم ہے۔
۴:… سنتِ موٴکدہ کا حکم صراحتاً نہیں دیکھا، بہتر ہے کہ اس میں بھی بعد کی رکعتوں کو پہلی رکعتوں سے لمبا نہ کیا جائے۔
چھوٹی سورتوں کے درمیان کتنی سورتوں کا فاصلہ ہو؟
س… ایک عالمِ دین فرماتے ہیں کہ امام کو قرأت کرتے ہوئے چھوٹی سورتوں کے درمیان کم از کم تین سورتوں کا فاصلہ رکھنا ضروری ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ اور کیا یہ مسئلہ دُرست ہے؟
ج… فقہاء نے لکھا ہے کہ چھوٹی سورتوں میں قصداً ایک سورة چھوڑ کر اس سے اگلی سورة پڑھنا مکروہ ہے، اگر بڑی سورة درمیان میں چھوڑ کر اگلی سورة پڑھی جائے تو مکروہ نہیں، اور اگر دو چھوٹی سورتیں چھوڑ کر تیسری پڑھی جائے تب بھی مکروہ نہیں، اور اگر بھول کر ایک چھوٹی سورة چھوڑ کر اگلی پڑھ لی جائے تب بھی مکروہ نہیں، کراہت کی وجہ یہ ہے کہ ایک چھوٹی سورة درمیان میں چھوڑ دینے سے ایسا شبہ ہوتا ہے گویا وہ اس سورة کو پسند نہیں کرتا۔
بالکل چھوٹی سورة سے مراد کون سی سورت ہے؟
س… کہتے ہیں کہ نماز میں ایک بالکل چھوٹی سورة چھوڑ کر اگلی سورة نہیں پڑھنی چاہئے، کیا بالکل چھوٹی سورة سے مراد سورہٴ اخلاص یا سورہٴ کوثر ہیں؟ اگر کسی نے اس مسئلے پر عمل نہ کیا تو کیا وہ گناہگار ہوگا؟
ج… سورہٴ لم یکن کے بعد آخر قرآن تک کی سورتیں ”چھوٹی سورتیں“ ہیں، پہلی رکعت میں جو سورہ پڑھی ہو دُوسری رکعت میں قصداً بعد والی چھوٹی سورة کو چھوڑ کر اگلی سورة پڑھنا مکروہ ہے، اگر بھول کر شروع کردی تو کوئی حرج نہیں، اب اس کو نہ چھوڑے۔
نماز میں بسم اللہ کو آہستہ پڑھا جائے یا آواز سے؟
س… سورة الفاتحہ میں کل سات آیات ہیں، جن میں بسم اللہ بھی شامل ہے، میں نے کئی مولانا کے پیچھے نماز ادا کی، وہ سورہٴ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ نہیں پڑھتے۔ ایک مولانا سے اس مسئلے پر میری بحث ہوگئی، میں یہ کہتا تھا کہ ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ سورہٴ فاتحہ کا ایک جز ہے، ایک آیت ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بڑے مولانا سے اسی طرح سنا ہے، یعنی بڑے مولانا بھی سورہٴ فاتحہ سے قبل بسم اللہ نہیں پڑھتے، نماز کی کتابوں میں بھی بسم اللہ تحریر ہے۔
ج… امام ابوحنیفہ کے نزدیک بسم اللہ شریف ایک مستقل آیت ہے، جو سورتوں کے درمیان امتیاز پیدا کرنے کے لئے نازل کی گئی ہے، تاکہ ہر سورة کا افتتاح اللہ تعالیٰ کے نام سے ہو، سورہٴ فاتحہ سے پہلے اس کا پڑھنا لازم ہے، مگر بسم اللہ شریف جہری نمازوں میں آہستہ پڑھی جاتی ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضراتِ شیخین (ابوبکر و عمر) رضی اللہ عنہما کا بھی یہی معمول رہا کہ بسم اللہ آہستہ پڑھتے تھے۔
ثنا سے پہلے بسم اللہ نہیں پڑھنی چاہئے
س… کیا جب نماز شروع کریں تو نیت کرنے کے بعد سبحانک اللّٰھم سے پہلے بسم اللہ پڑھنی چاہئے یا کہ نہیں؟
ج… سبحانک اللّٰھم سے پہلے بسم اللہ نہیں پڑھی جاتی، بلکہ ثنا کے بعداعوذباللہ اور بسم اللہ پڑھنی چاہئے۔
دُوسری رکعت شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھنا
س… نماز کی دُوسری رکعت شروع کرنے سے پہلے کیا بسم اللہ پڑھنی ضروری ہے؟ عموماً پہلی رکعت میں پڑھی جاتی ہے، دُوسری، تیسری اور چوتھی رکعت میں بھی پہلی رکعت کی طرح کیا بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی جائے؟ اگر نہ پڑھی جائے تو کیا فرق پڑتا ہے؟
ج… پہلی اور دُوسری سورہٴ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ شریف پڑھنا بعض علماء کے نزدیک سنت ہے، مگر علامہ حلبی نے شرح مُنیہ میں لکھا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ یہ واجب ہے، اگر بھول جائے تو سجدہٴ سہو واجب ہوگا، تیسری اور چوتھی رکعت میں مستحب ہے۔
کیا نماز کی ہر رکعت میں تعوّذ و تسمیہ پڑھنی چاہئے؟
س… کیا نماز کی ہر رکعت میں تعوّذ اور تسمیہ پڑھنی چاہئے؟
ج… اعوذ باللہ صرف پہلی رکعت میں ثنا کے بعد امام اور اکیلا نمازی پڑھتا ہے، بسم اللہ ہر رکعت میں سورہٴ فاتحہ سے پہلے پڑھی جاتی ہے۔
کیا ثنا اور تعوّذ سنتِ موٴکدہ کی دُوسری رکعت میں بھی پڑھیں گے؟
س… چار رکعت سنت پڑھتے وقت پہلی رکعت میں شروع میں ثنا، تعوّذ، تسمیہ اور اس کے بعد سورہٴ فاتحہ اور سورہٴ اخلاص پڑھتے ہیں، جب دُوسری، تیسری اور چوتھی رکعت پڑھیں گے تو کیا تمام رکعت اسی ترتیب سے پڑھیں گے جیسے کہ اُوپر لکھا ہے، یعنی ثناء، تعوّذ اور تسمیہ اس کے بعد سورہٴ فاتحہ اور سورہٴ اخلاص؟ اس کی صحیح ترتیب لکھیں کہ ثناء، تعوّذ اور تسمیہ کون کون سی رکعت تک پڑھیں، اس کے بعد کہاں سے شروع کریں؟ کتاب میں صحیح ترتیب نہیں لکھی ہوئی ہے۔
ج… بسم اللہ شریف تو ہر رکعت کے شروع میں پڑھی جاتی ہے، اور ثنا اور تعوّذ فرض اور سنتِ موٴکدہ کی صرف پہلی رکعت میں پڑھی جاتی ہے، باقی رکعات میں نہیں۔ البتہ سنتِ غیرموٴکدہ اور نفل نماز میں تیسری رکعت کو ثنا اور تعوّذ سے شروع کرنا افضل ہے، تیسری رکعت میں ثنا و تعوّذ نہ پڑھے تب بھی کوئی حرج نہیں۔
الحمد کی ایک آیت میں سکتہ کرنا
س… ”ایاک“ اور ”نعبد“ کے درمیان سکتہ کرنے سے نماز دُرست ہے یا نہیں؟
ج… سکتہ کے معنی ہیں آواز بند کرلینا، مگر سانس نہ توڑنا، ”ایاک“ اور ”نعبد“ کے درمیان سکتہ نہیں، اس لئے یہاں سکتہ کرنا تو غلط ہے، لیکن نماز ہوجائے گی۔
”ض“ کا تلفظ باوجود کوشش کے صحیح نہ ہونے پر نماز ہوجائے گی
س… ماہنامہ ”الفاروق“ میں ایک جگہ ”غیر المغضوب“ والا سوال آیا تھا کہ اگر ”غیر المغضوب“ کے ”ض“ کو اپنے مخرج سے ”د“ ادا کیا جائے تو اس کے معنی بدل جاتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ”مغدوب“ سخت گوشت کو کہتے ہیں اور ”مغضوب“ کے معنی ہیں غضب کیا گیا، اور حوالہ لسان العرب کا دیا گیا، جبکہ ہمارے بریلوی علماء کہتے ہیں کہ اس کا صحیح مخرج بڑے بڑے علماء سے ادا نہیں ہوسکا، اس لئے انہوں نے بھی ”د“ کے مخرج میں ادا کیا، اور انہوں نے ”فتاویٰ مہریہ“ کا حوالہ دیا۔
ج… ”ض“ کا مخرج ”دال“ اور ”ظ“ دونوں سے الگ ہے، کسی ماہر سے اس کے ادا کرنے کی مشق کی جائے، اور جو شخص مشق کے باوجود صحیح تلفظ پر قادر نہ ہو اس کی نماز صحیح ہے۔
جان بوجھ کر فرضوں میں صرف فاتحہ پر اکتفا کرنا
س… ہمارے محلے کی ایک مسجد میں گزشتہ جمعہ کو امام صاحب جمعہ کی نماز میں ایک رکعت میں خالی سورہٴ فاتحہ پڑھاکر رُکوع میں چلے گئے، مقتدی یہ سمجھے کہ شاید امام صاحب بھول گئے، بعد میں جب ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ میں بھولا نہیں، میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے، کیونکہ یہ سنت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ نے بھی ایسا کیا ہے، اس لئے میں نے صحیح کیا۔
ج… آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول سنتِ متواترہ سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورہٴ فاتحہ پر اکتفا نہیں کرتے تھے، بلکہ اس کے بعد کوئی اور سورة بھی پڑھتے تھے، کسی صحیح روایت میں یہ نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف سورہٴ فاتحہ پر اکتفا کیا ہو، البتہ امام بیہقی کی کتاب ”سننِ کبریٰ“ (ج:۲ ص:۶۱) میں اس مضمون کی ایک روایت ابنِ عباس سے مروی ہے، اور حافظ نے ”فتح الباری“ (ج:۲ ص:۲۴۳) میں اس کو ابنِ خزیمہ کے حوالے سے ذکر کیا ہے، مگر یہ روایت ضعیف اور سنتِ متواترہ کے خلاف ہونے کی وجہ سے غلط اور منکر ہے، جہاں تک ہمیں معلوم ہے اہلِ حدیث حضرات بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ متواترہ پر عمل کرتے ہوئے فاتحہ کے بعد کوئی سورة ضرور پڑھتے ہیں، نامعلوم آپ کے امام صاحب کو کیا سوجھی، انہوں نے ایک ضعیف اور غلط روایت کو سنتِ متواترہ پر ترجیح دی، فرض کی دو رکعتوں میں فاتحہ کے ساتھ سورة کا ملانا واجب ہے، اور اگر واجب عمداً ترک کردیا جائے تو نماز واجب الاعادہ ہے۔
شافعی نمازِ فجر کے دُوسرے رُکوع کے بعد قنوت پڑھتے ہیں
س… میں مکہ مکرّمہ میں روٹی کی فیکٹری میں کام کرتا ہوں، اور روزانہ مکہ سے تھوڑے فاصلے پر وادی حینہ (مسجد) میں فجر کی نماز ادا کرتا ہوں، امام صاحب پہلی رکعت میں رُکوع بھی کرتے ہیں اور سجدہ بھی، مگر دُوسری رکعت میں قرأت کے بعد رُکوع کے بجائے اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ اُٹھاکر دُعا کرتے ہیں، دُعا کے بعد سیدھے سجدہ میں جاتے ہیں، رُکوع نہیں کرتے، آیا یہ طریقہٴ نماز دُرست ہے یا نہیں؟ اگر دُرست ہے تو کس فقہ میں دُرست ہے؟
ج… رُکوع تو نماز کا فرض ہے، اس کے بغیر نماز نہیں ہوسکتی، دراصل امام شافعی کے نزدیک دُوسری رکعت میں رُکوع کے بعد قنوت پڑھی جاتی ہے، یہ امام، شافعی مسلک کے ہوں گے، اور رُکوع کے بعد قنوت پڑھتے ہوں گے، یہ ممکن نہیں کہ وہ رُکوع نہ کرتے ہوں، بہرحال جب امام قنوت پڑھے تو آپ خاموش رہیں۔
قیام میں بھول کر التحیات دُعا و تسبیح یا رُکوع و سجدہ میں قرأت کرنا
س… اگر قیام میں قرأت کے بجائے التحیات یا دُعا یا تسبیح وغیرہ پڑھے یا اس کے برعکس رُکوع و سجدہ میں بجائے تسبیح کے قرأت کرلے بھول کر تو پھر کیا کرے؟
ج… اگر سورہٴ فاتحہ سے پہلے بھول کر تشہد یا تسبیح پڑھ لے تو سجدہٴ سہو لازم نہیں آتا، اور اگر سورہٴ فاتحہ کے بعد پڑھے تو سجدہٴ سہو لازم ہے۔
اگر رُکوع یا سجدے میں بھول کر قرأت کرلے تو اس میں دو قول ہیں، ایک یہ کہ سجدہٴ سہو لازم آئے گا، دوم یہ کہ سجدہٴ سہو لازم نہیں آتا، صاحبِ بحر نے پہلے قول کو ظاہر کیا ہے، یعنی اس صورت میں سجدہٴ سہو لازم آئے گا۔
ظہر یا عصر کی دُوسری رکعت میں شامل ہونے والا بقیہ نماز کس طرح پڑھے؟
س… مولانا صاحب! اگر میں ظہر یا عصر کی جماعت کی دُوسری رکعت میں شامل ہوا تو امام کے سلام پھیر لینے کے بعد جب اپنی چھوٹی ہوئی پہلی رکعت ادا کروں گا تو میں سورة کی کس طرح ترتیب قائم کروں گا؟ کیونکہ ان نمازوں میں قرأت خفی ہوتی ہے، اسی طرح اگر میں فجر، مغرب یا عشاء کی جماعت کی دُوسری رکعت میں شامل ہوا تو امام کے سلام پھیر لینے کے بعد جب میں اپنی بقیہ رکعت ادا کروں گا تو اس صورت میں قرآن کی ترتیب کس طرح قائم رکھوں گا؟ کیونکہ ان نمازوں میں خاص طور سے فجر اور عشاء میں بیچ قرآن سے تلاوت ہوتی ہے، کیونکہ میں حافظ نہیں ہوں۔
ج… جن رکعتوں کو آپ امام کے سلام پھیر دینے کے بعد پوری کریں گے ان میں آپ امام کے تابع نہیں، بلکہ اپنی اکیلے نماز پڑھ رہے ہیں، اس لئے ان رکعتوں میں آپ کو اپنی قرأت کی ترتیب ملحوظ رکھنا تو ضروری ہے، مثلاً اگر آپ کی دو رکعتیں رہ گئی ہیں تو پہلی رکعت میں آپ نے جو سورة پڑھی ہے، دُوسری رکعت میں اس کے بعد والی سورة پڑھیں، اس سے پہلے کی نہ پڑھیں، لیکن امام کی قرأت کی ترتیب کا لحاظ آپ کے ذمہ ضروری نہیں، پس امام نے جو سورتیں پڑھیں آپ بقیہ رکعت میں اس سے پہلے کی سورة بھی پڑھ سکتے ہیں اور بعد کی بھی۔
تیسری اور چوتھی رکعت میں سورہٴ فاتحہ واجب نہیں ہے
س… میری مسجد کے امام صاحب نے ایک دن مغرب کی آخری رکعت میں ایک منٹ سے بھی کم قیام کیا اور رُکوع میں چلے گئے، نماز کے بعد نمازیوں نے پوچھا کہ آپ نے اتنی جلدی سورہٴ فاتحہ پڑھ لی؟ تو امام صاحب نے کہا کہ مجھے جلدی تھی اس لئے میں نے تین مرتبہ سبحان اللہ پڑھ لیا تھا، نماز ہوگئی۔ لیکن میں اس بات سے متفق نہیں ہوں، مسجد کمیٹی نے ایک مفتی صاحب سے پوچھا تو مفتی صاحب نے کہا کہ مغرب کی تیسری رکعت میں سورہٴ فاتحہ واجب نہیں، مستحب ہے، کیا یہ فتویٰ صحیح ہے؟ اگر نہیں تو کیا میری وہ امام صاحب کے ساتھ نماز جائز ہوگی؟
ج… حضرت امام ابوحنیفہ کے نزدیک قرأت فرض نماز کی صرف پہلی دو رکعتوں میں فرض ہے، آخری دو رکعتوں میں واجب نہیں، بلکہ ان میں صرف سورہٴ فاتحہ کا پڑھنا مستحب ہے، اس لئے حنفی مذہب کے مطابق یہ فتویٰ صحیح ہے۔
چار رکعت سنتِ موٴکدہ کی پہلی رکعت میں سورہٴ فلق پڑھ لی تو کیا کرے؟
س… چار رکعت سنتِ موٴکدہ کی پہلی رکعت میں سہواً سورہٴ فلق پڑھ لی، بقیہ تین رکعتوں میں کون سی سورة ملانا افضل ہے اور کون سی ناجائز؟
ج… باقی رکعتوں میں سورة الناس پڑھتا رہے۔
وتر کی نماز میں کون سی سورتیں پڑھنا افضل ہے؟
س… کیا وتر کی پہلی، دُوسری اور تیسری رکعتوں میں سورہٴ فاتحہ پڑھنے کے بعد بالترتیب سورہٴ اعلیٰ، سورة الکافرون اور سورہٴ اخلاص پڑھنا ضروری ہے؟ سورہٴ اعلیٰ کے علاوہ کوئی دُوسری سورة پڑھ سکتے ہیں؟
ج… انہی تین سورتوں کا پڑھنا ضروری نہیں، بلکہ کوئی دُوسری سورة بھی پڑھ سکتے ہیں، البتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ان تین سورتوں کا علی الترتیب پڑھنا منقول ہے، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کی نیت سے یہ تین سورتیں پڑھی جائیں تو بہت اچھی بات ہے، لیکن کبھی کبھی دُوسری سورتیں بھی پڑھ لیا کریں۔
وتر کی پہلی رکعت میں سورہٴ فلق پڑھ لی تو آخری رکعت میں کیا پڑھے؟
س… غیررمضان میں وتر پڑھتے ہوئے اکثر میرے منہ سے پہلی رکعت میں سورة الفلق نکل جاتی ہے، دُوسری رکعت میں سورة الناس پڑھتا ہوں، کیا میں وتر کی تیسری رکعت میں سورة الفاتحہ کے بعد سورة البقرة کی ابتدائی آیات پڑھ سکتا ہوں یا مجبوراً سورة الفلق سے پہلے کی کوئی سورة پڑھوں؟
ج… تیسری رکعت میں بھی سورة الناس کو دوبارہ پڑھ لیا جائے۔
وتر کی پہلی رکعت میں سورة الناس پڑھ لی تو باقی دو رکعتوں میں کیا پڑھے؟
س… ہم وتر کی نماز ادا کر رہے ہیں اور پہلی رکعت میں ہم نے سورة الناس پڑھی، آخری دونوں رکعتوں میں کون سی سورة پڑھنی چاہئے؟ اسی طرح ہم سنتِ موٴکدہ کی چار رکعت ادا کر رہے ہیں اور پہلی رکعت میں ہم نے سورة الناس پڑھی، آخری تینوں رکعتوں میں کون سی سورتیں پڑھنی چاہئیں؟
ج… باقی رکعتوں میں بھی یہی سورة پڑھتے رہیں۔
اگر دُعائے قنوت نہ آئے تو کیا پڑھے؟
س… میں نے صدر سے آسان نماز کی کتاب خریدی ہے، جو محمد عبدالمنان صاحب نے مکتبہ تھانوی سے شائع کی، جس کے صفحہ:۶ پر تحریر ہے کہ اگر دُعائے قنوت نہ آئے تو ”ربنا اٰتنا فی الدنیا“ پڑھ لیں لیکن تعداد نہیں لکھی۔
ج… ایک بار پڑھ لینا کافی ہے، لیکن دُعائے قنوت یاد کرنے کا اہتمام کرنا چاہئے۔
نماز میں پہلے دُعا پھر دُرود شریف پڑھ کر سلام پھیرنا کیسا ہے؟
س… نماز میں دُرود شریف کے بعد عربی کی مأثورہ دُعائیں (جو عموماً نماز کے بعد بھی پڑھی جاتی ہیں) یا ان میں سے کچھ پڑھنا اور پھر دُرود شریف پڑھ کر سلام پھیرنا کیسا ہے؟
ج… جائز ہے، لیکن جو ترتیب بتائی گئی ہے اس کے خلاف کیوں کیا جائے؟
رُکوع اور سجدہ سے اُٹھتے ہوئے مقرّر الفاظ سے مختلف کہنا
س… الف اور ج ایک دفتر میں ملازم ہیں، ایک دن ج نے ظہر کی امامت کی، اس نے رُکوع سے اُٹھتے وقت اللہ اکبر کہا، جبکہ اسے ”سمع اللہ لمن حمدہ“ کہنا تھا، دُوسرے سجدے سے اُٹھتے وقت ج نے ”سمع اللہ لمن حمدہ“ کہا، اسے اللہ اکبر کہنا تھا، اسی طرح ہر رُکوع کے بعد اللہ اکبر کہا اور ہر دُوسرے سجدے کے بعد ”ربنا لک الحمد“ کہا، اسی طرح چار رکعات پوری ہوئیں، جبکہ روزانہ پانچ وقت کی نماز ادا کرتا ہے، مسجد میں امام صاحب کی آواز برابر سنتا ہے اور کوئی ناسمجھ اور بھولا آدمی نہیں ہے، بلکہ ایک بالغ، ہوشیار، سمجھ دار اور ماشاء اللہ کئی بچوں کا والد ہے۔ وہ کسی مولانا سے کم نہیں ہے، اپنے کو بہتر جانتا ہے، اس نے نہ تو سجدہٴ سہو کرایا، نہ نماز کے بعد اس کی غلطی بتائی گئی تو اسے کوئی احساس نہیں ہوا، بلکہ اس نے دُوسروں کی غلطی بیان کرنی شروع کردی، الف آپ سے موٴدّبانہ عرض کرتا ہے کہ اس طرح نماز ادا ہوگئی یا سب کو لوٹانی پڑے گی؟
ج… رُکوع سے اُٹھتے ہوئے ”سمع اللہ لمن حمدہ“ کہنا اور سجدے سے اُٹھتے ہوئے تکبیر کہنا سنت ہے، اس کے خلاف کرنے کی صورت میں نماز تو ہوگئی مگر جان بوجھ کر سنت کے خلاف کرنا بُرا ہے، اور اگر اس کا مقصد سنت کا مذاق اُڑانا تھا تو یہ کفر کے مترادف ہے۔